بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کلما طلاق کی قسم کھانا

سوال

’’کلما طلاق‘‘  پر قسم کھاکر کہتاہوں کہ میں نے یہ کام نہیں کیا،  اس کی وضاحت فرما دیں۔

جواب

اگر کوئی شخص اس طرح کے الفاظ استعمال کرتا ہے کہ میں ’’کلما طلاق‘‘  کی قسم کھاتا ہوں تو ان الفاظ سے قسم منعقد  نہیں ہوتی، اور اس کے جھوٹے ہونے کی صورت میں اس کی بیوی پر کوئی طلاق بھی واقع نہیں ہو گی۔  البتہ جھوٹا ہونے کی صورت میں قسم کا سہارا لے کر جھوٹ بولنا کبیرہ ترین گناہ ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200595
تاریخ23-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں