بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شکر ادا کرنے کا طریقہ

سوال

اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کے لیے ’’شکر الحمداللہ‘‘  کہنا صحیح ہے?  یا کس طرح سے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا جائے?

جواب

ہر مسلمان کو اللہ تعالیٰ کا خوب شکر ادا کرنا چاہیے، شکر ادا کرنا اللہ تعالیٰ کو پسند بھی ہے اور اس کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ شکر کی ادائیگی کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں، زبان سے ’’الحمد للہ‘‘  کہنا بھی اس کی ایک صورت ہے، صرف یہ کہنا کہ ’’اے اللہ آپ کا شکر ہے‘‘ یا سوال میں مذکورہ کلمات کہنا بھی شکر میں داخل ہے، دو رکعت نفل پڑھ کر بھی اللہ تعالی کا شکر اد ا کیا جا سکتا ہے، بلکہ تمام عبادات کی ادائیگی در حقیقت اللہ تعالی ٰ کے شکر کی ادائیگی میں داخل ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عبادات میں بہت زیادہ مشقت اٹھایا کرتے تھے تو کسی نے کہا کہ آپ کے سارے اگلے پچھلے گناہ (بالفرض اگر ہوتے تو) معاف کردیے گئے ہیں، پھر آپ کیوں اتنی محنت کرتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟"  گویا ساری عبادات ہی اللہ تعالی کا شکرانہ ہیں؛  اس  لیے ہر عبادت اور شریعت کے ہر حکم کی تعمیل میں ادائے شکر کی  نیت کی جا سکتی ہے، اسی طرح مختلف مواقع کی مناسبت سے جو دعائیں سنت سے ثابت ہیں وہ سب ہی ادائے شکر کے لیے ہی ہیں، ان کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔

سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (2/ 421):
"عن زياد بن علاقة سمع المغيرة يقول: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى تورمت قدماه، فقيل: يا رسول الله، قد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر! قال: "أفلا أكون عبداً شكوراً." 
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200584
تاریخ22-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں