بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قنوت اور دعاءِ قنوت میں فرق

سوال

قنوت پڑھنا واجب ہے، جب کہ دعاءِ قنوت ’’ اللّٰهم إنا نستعينك... الخ‘‘ سنت ہے۔ 

قنوت اور دعاءِ قنوت میں فرق بیان فرما دیں!

جواب

’’قنوت پڑھنا واجب ہے‘‘  کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی دعا بطورِ قنوت (مثلاً: ربنا أٰتنا في الدنیا حسنة ... الخ) پڑھنے سے بھی واجب ادا ہو جائے گا۔  لیکن سنت (مستحب) یہ ہے کہ معروف الفاظ  والی دعائے قنوت پڑھی جائے، نہ کہ اس کے علاوہ کوئی اور دعا۔

’’وليس في القنوت دعاء مؤقت، كذا في التبيين. و الأولي أن يقرأ : اللّهم إنا نستعينك و يقرأ بعده اللّهم اهدنا فيمن هديت. و من لم يحسن القنوت يقول: "ربنا آتنا في الدنيا حسنةً وفي الآخرة حسنةً و قنا غذاب النار"، كذا في المحيط. أو يقول: اللّهم اغفرلنا، و يكرر ذلك ثلاثاً، وهو اختيار أبي الليث، كذا في السراجية‘‘. (الباب الثامن في صلاة الوتر، ١/ ١١١، ط: رشيدية)  فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200564
تاریخ22-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں