بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرم شریف میں وتر کی نماز امام کے ساتھ پڑھنے کا حکم

سوال

حرم شریف میں وتر کی ایک رکعت الگ پڑھی جاتی ہے اور دعا بالجہر کی جاتی ہے، کیا یہ صحیح ہے؟ اور حنفی مسلک والے حرم شریف میں وتر  الگ پڑھیں یا امام کے ساتھ؟

جواب

حنفی مسلک میں وتر کی نماز تین رکعت ایک سلام کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے؛ اس لیے حنفی کے لیے   دو سلام کے ساتھ  وتر پڑھنا درست نہیں ہے،حنفی حضرات کو چاہیے کہ وہ حرمین میں تراویح تو  ان کے امام کی اقتدا ہی میں ادا کریں،  لیکن وتر کی نماز میں ان کے ساتھ شامل نہ ہوں، بلکہ اپنی علیحدہ اجتماعی یا انفرادی پڑھ لیں ،  اور اگر ان کے ساتھ  ادا کرلی ہو تو  اس کا اعادہ کرلیں۔

ملحوظ رہے کہ وتر کی نماز تین رکعت ایک سلام کے ساتھ پڑھنا فقہ حنفی میں ضروری ہے، جہاں تک حرمین شریفین والوں کا مسلک ہے تو ان کے مسلک میں وتر  دو سلام کے ساتھ پڑھی جاتی ہے اور ان کے مسلک میں ایسا کرنا درست ہے۔

"فظهر بهذا أن المذهب الصحيح صحة الاقتداء بالشافعي في الوتر إن لم يسلم على رأس الركعتين وعدمها إن سلم. والله الموفق للصواب"  (البحر الرائق، 2/40، باب الوتر والنوافل، ط: سعید)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200535
تاریخ21-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں