بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کشتی لڑنے کے لیے بدن کے بال صاف کرنا

سوال

ہمارے یہاں پر دیسی کشتی کا بہت رواج ہے تو اکثر پہلوان اپنے پورے بدن کے بال اکھاڑتے ہیں؛ تاکہ کشتی میں  سامنے والے پہلوان کا ہاتھ پھسلےتوایسا کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

مرد کے لیے پنڈلی، ٹانگوں، بازو  اور سینے کے بال کاٹنے کی گنجائش ہے، لیکن خلافِ ادب ہے۔

یہ تو سوال کا جواب ہوا،  لیکن یہ بات واضح رہے کہ کشتی اس طرح کرنا کہ ناف سے لے کر گھٹنے تک بدن کا کوئی حصہ کھلا رہے، جائز نہیں۔

"وفي حلق شعر الصدر والظهر ترك الأدب، كذا في القنية". (الفتاوى الهندية ،5/ 358) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200519
تاریخ20-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں