بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تنخواہ کے بارے میں ایک حدیث

سوال

حدیثِ پاک کی سند معلوم کرنی ہے کہ حدیثِ پاک کے ذخیرے میں یہ حدیث ہے بھی یا نہیں جس کا مفہوم اس طرح ہے: "ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تنگی کا عرض کیا جب کہ وہ کہیں ملازمت فرماتے تھے اور تنخواہ ایک درہم تھی،  نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اپنی تنخواہ 25%  کم کروالو تو ان صحابی نے ایسا کیا جس سے گزر بسر کچھ بہتر ہوا. آپ نے ان صحابی کو مزید 25% تنخواہ کم کرانے کو کہا تو ان صحابی نے ایسا ہی کیا اور وہ صحابی فقط آدھا درہم اجرت لیتے یہاں تک کے وہ خوش حال ہو گئے. ان صحابی نے آپ سے وجہ دریافت کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم کام آ دھا درہم کا کر رہے تھے مگر اجرت میں ایک درہم لے رہے تھے. آ دھا درہم تمہارے لیے حرام تھا، جب حرام تمہاری اجرت سے نکلا تو تم خوش حال ہوگئے"۔

جواب

یہ حدیث ہمیں ذخیرہ حدیث میں نہیں ملی، لہذا اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے ذکر کرنا درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200510
تاریخ20-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں