بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پرچون کی دکان میں زکاۃ کا حساب

سوال

پرچون کی دکان کی سالانہ زکاۃ کس طرح حساب کرکے نکالی جائے  حال آں کہ دکان میں جو ہزاروں چھوٹی موٹی اشیاء  ہوتی ہیں ان کا الگ الگ حساب لگانا بہت مشکل کام ہوتا ہے، ان اشیاء  کے حساب لگانے کا طریقہ کیا ہوگا؟

جواب

شرعی طریقہ تو اس صورت میں یہی کہ دکان میں موجود جتنا سامانِ تجارت ہے، سب کو الگ الگ شمار کیا جائے،محض اندازا  لگا کر زکاۃ نکالی گئی تو جتنی رقم کم ادا کی جائے گی اتنی زکاۃ ذمے میں باقی رہے گی، اس لیے  دکان کے مکمل سامان کا حساب لگایاجائے۔ تاہم اگر پوری کوشش کے باوجود  کسی وجہ سے دکان کا  مکمل حساب کرنا ممکن  نہ ہوتو  اندازا  لگاکر اس میں  کچھ اضافہ کرکے زکاۃ  ادا کرے ، تاکہ زکاۃ واجب مقدار سے  کم ادا نہ ہو۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200509
تاریخ20-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں