بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گناہ گار شوہر سے علیحدگی اختیار کرنا

سوال

ایک گھریلو عورت ہے جو ہر طرح سے اپنے گھر اور شوہر کا خیال رکھتی ہے، پھر بھی اس کا شوہر باہر کی عورتوں سے تعلق رکھتا ہے، شراب پیتا ہے اور برائیوں کی حد پار کردیتا ہے۔ بیوی سمجھا کر تھک چکی ہے اور دوسری شادی کی بھی اجازت دے چکی ہے, لیکن پھر بھی وہ نہیں سدھرتا۔ اب بیوی کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا اس کے لیے الگ ہونا جائز ہے؟ شادی کو 15 سال ہوچکے ہیں اور کوئی اولاد نہیں ہے۔

جواب

واضح رہے کہ شوہر کے فاسق (گناہ گار) ہوجانے کی وجہ سے (جب کہ وہ بیوی کو مذکورہ افعالِ قبیحہ میں ملوث نہ کررہاہو) بیوی کو علیحدگی اختیار کرنے کا حق  نہیں ہے; لہذا بیوی کو چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے اپنا گھر بسانے کی کوشش کریں اور آپ خاندان کے بزرگوں کو  یا محلے کے  بڑوں کے سامنے یہ مسائل رکھیں، پھر وہ آپ کے شوہر کو سمجھائیں۔

فتاوی محمودیہ میں ہے :

’’بدمعاشی اور زنا کاری یا ایسے دوسرے خبیث و شنیع گناہوں کی وجہ سے شوہر سے علیحدگی کا اختیار نہیں ہے۔۔۔‘‘الخ (۱۳ / ۱۸۷، دار الافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200500
تاریخ20-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں