بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ میں دو خطبے پڑھنا رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے

سوال

جمعہ میں دو خطبے پڑھنا کیا آں حضرت ﷺ سے یا صحابہ سے ثابت ہے؟

جواب

جمعہ میں دو خطبے پڑھنا اور دونوں کے درمیان وقفہ کرکے بیٹھنا مسنون ہے، رسول اللہﷺ کا یہی معمول تھا ۔

مسلم شریف میں ہے:

"عن جابر بن سمرة رضي الله عنه قال: كانت للنبي صلى الله عليه وسلم خطبتان يجلس بينهما، يقرء القرآن ويذكر الناس، فكانت صلوته قصداً وخطبته قصداً". (رواه مسلم 9/3 ط بیروت)

ترجمہ: حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دو خطبے ہوتے تھے جن کے درمیان آپ ﷺ بیٹھتے تھے، ان میں قرآنِ مجید پڑھتے تھے اور لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے، الغرض رسول اللہ ﷺ کی نماز بھی معتدل ہوتی تھی اور خطبہ بھی معتدل۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200485
تاریخ19-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں