بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدینہ سے مکہ آکر روانگی سے دو دن پہلے حیض آگیا

سوال

اگر عورت مدینہ کے میقات سے عمرہ کی نیت کر لے اور مکہ آجائے اور پھر اسے حیض آجائے اور دو دن بعد واپسی کی فلائٹ ہو تو شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر مکہ مکرمہ پہنچ کر ابھی تک عمرہ نہ کیا ہو اور عورت کو حیض آجائے اور حیض ختم ہونے کا انتظار کرنے کا وقت بھی نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں حیض کی حالت میں ہی عمرہ کرلے اور حرم کی حدود میں دم دے دے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 551):

"وفي الفتح: لو طاف للعمرة جنباً أو محدثاً فعليه دم".  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200472
تاریخ19-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں