بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وضو کے دوران دنیاوی گفتگو کرنا

سوال

کیا وضو کےدوران دنیاوی بات چیت کر سکتے ہیں?

جواب

وضو کے آداب میں سے ہے کہ وضو کے  دوران بلا ضرورت  بات چیت نہ کی جائے، لیکن اگر کسی سے بات کرنے کی ضرورت پیش آجائے اور بات نہ کرنے کی صورت میں اس  ضرورت کے فوت ہونے کا خطرہ ہو تو بات چیت کرنا خلافِ ادب نہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1 / 126) ط: سعيد:

"(و) عدم (التكلم بكلام الناس) إلا لحاجة تفوته".

الفتاوى الهندية (1 / 98):

" وأن لايتكلم فيه بكلام الناس، كذا في المحيط. فإن دعت إلى الكلام حاجة يخاف فوتها بتركه لم يكن فيه ترك الأدب،كذا في البحر الرائق". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200460
تاریخ18-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں