بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کو حافظ بنانے کی نذر مانی، بیٹا ذھناً کمزور نکلا

سوال

ایک آدمی نے  نذر مانی کہ میرے ہاں بیٹا ہوا تو اس کو حافظ بنائیں گے،  اب اس کو حفظ کروا رہے ہیں، مگر وہ ذہناً کم زور ہے اور اگلا یاد کرتا ہے پچھلا بھول جاتا ہے۔دو سال میں اس نے صرف ایک پارہ حفظ کیا ہے۔ اب ایسی صورت میں ہم اس کو حفظ نہ کروائیں، بلکہ اس کی جگہ اپنے دوسرے بیٹے کو حافظ بنانے کا ارادہ کر لیں تو کیا ایسی صورت میں ہم نذر پوری نہ کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے؟یا ہم پر کسی قسم کا کفارہ لازم تو نہیں آئے گا؟ 

جواب

بیٹے کو حافظ بنانے کی نذر شرعاً منعقد نہیں ہوتی اور اس پر نذر کے احکامات جاری نہیں ہوتے،  لیکن بہرحال یہ اللہ تعالی سے ایک وعدہ ہوتا ہے؛ اس لیے حتی الامکان اس کو پورا کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہے،اگر بیٹا ذہناً   کم زور ہے، اور خرافات سے پاک حفظِ قرآن کے لیے موافق ماحول میسر کرنے کے باوجود اس کے لیے قرآن یاد کرنا مشکل ہورہا ہواور اساتذہ بھی اس نتیجے پر پہنچ گئے ہوں کہ اس کاحفظ کرنا مشکل ہے تو حفظ نہ کرانے کی وجہ سےوالدین گناہ گار نہیں ہوں گے۔ البتہ قرآن پاک کا جتنا حصہ ہوسکے وہ یاد کرلے اور اسے پختہ رکھنے کی کوشش کرتارہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200457
تاریخ18-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں