ناک کے بالوں کا حکم
سوال
ناک کے بالوں کا صاف کرنا ضروری ہے؟ مجھے کسی صاحب نے کہا ہے کہ ناک سے جو بال باہر کی طرف نکل جائیں صرف ان بالوں کو کاٹا جائےاور جو اندر ہیں ان کو نہ کاٹیں، کیوں کہ ناک کے بالوں کو اللہ پاک نے برش کی طرح بنایا ہے جو ماحولیات کی گندگی کو اندر جانے سے روکتے ہیں، اس حوالے سے راہ نمائی فرمائیے۔
جواب
ناک کے بالوں کا حکم یہ ہے کہ ان کو اکھاڑنا / نوچنا مکروہ ہے، اگر بال لمبے ہوں یا ناک سے باہر نکل آئیں تو کاٹنا سنت ہے، عام حالت میں انہیں چھوڑے رکھنا ہی بہتر ہے۔ اور یہ کہنا بھی درست ہے کہ طبی اعتبار سے یہ ماحولیاتی آلودگی سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
"ويكره نتف شعر الأنف، بل يسن قصه إن طال، وأن يتركه لما فيه من المنفعة الصحية ". [الفقه على المذاهب الأربعة : ٢/ ٤٤] فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

