بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدین، اولاد اور بیوہ میں وراثت کی تقسیم

سوال

کیا بیٹے کی وفات کے بعد ماں باپ وراثت کے حق دار ہوں گے؟بیٹے نےترکہ میں تقریباً بیس کروڑ کی جائیداد اور کاروبار وغیرہ چھوڑا ہو تو ماں باپ کے حصے میں کیا آئے گا؟مرحوم نے بیوہ اور چار بیٹے، تین بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

جواب

جی ہاں! مرحوم بیٹے کے ترکہ میں والدین بھی وارث ہوں گے، اور مرحوم بیٹے کے کل ترکہ کو 264حصوں میں تقسیم کیاجائے گا،جس میں سے 44حصے  مرحوم کے والد کو ، 44حصے مرحوم کی والدہ کو ،33حصے مرحوم کی بیوہ کو ،اور 26،26 حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 13،13حصے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو  دیے جائیں گے۔

یعنی سو روپے میں سے 16.66روپے والدکو ،16.66روپے والدہ کو، 12.05روپے مرحوم کی بیوہ کو ،9.85روپے ہر ایک بیٹے کو اور 4.92روپے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو  دیے جائیں گے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200414
تاریخ16-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں