بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حکومتِ وقت کی جانب سے نوجوانوں کو دیے جانے والے قرضہ کا شرعی حکم

سوال

 گورنمنٹ نے جو اسکیم نکالی ہے نوجوان آسان قرضے  کی وہ اسلامی لحاظ سے ٹھیک ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں نوجوانوں کو قرضہ دینے کے حوالے  سے جس اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے ، اس میں آٹھ سال میں قسط وار  واپسی میں اصل رقم سے زائد رقم کی ادائیگی کو لازم قرار دیا ہے، جو کہ قرض پر مشروط نفع کی ادائیگی کی  قبیل سے ہے۔ اور یہ از روئے شرع سود ہے، لہذا ایسا قرضہ لینا شرعاً جائز نہیں۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200408
تاریخ16-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں