بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک کے کاروبار کا حکم

سوال

بینک کاروبار کیسا ہے؟

 

جواب

بینک  کے  نظام کی بنیاد سود پر ہے، اور درحقیقت یہ قرضوں کی لین دین کا ادارہ ہے، جس کی عملی صورت بینک میں سودی ہوتی ہے، اور سود کا لینا دینا قرآن وحدیث کی واضح نصوص کی رو سے قطعاً حرام ہے،  اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا بینک سے کسی بھی قسم کے تمویلی معاملات جائز نہیں ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200394
تاریخ15-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں