بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناپاکی کی حالت میں نکاح ہوگا  کہ نہیں؟

سوال

ناپاکی کی حالت میں نکاح ہوگا  کہ نہیں؟

جواب

ناپاکی سے مراد اگر حالتِ جنابت میں ہونا ہو تو اس حالت میں اگرچہ نکاح منعقد ہوجائے گا،  لیکن غسلِ جنابت میں بلا عذر تاخیر کرنا مکروہ ہے، نیز حالتِ جنابت میں مسجد میں داخل ہونا بھی جائز نہیں۔ اور اگر بلاوضو ہونا مراد ہو تو بلا شک وشبہ نکاح منعقد ہوجائے گا۔ اور اگر ناپاکی سے مراد عورت کا ایام میں ہونا ہو تو بھی نکاح منعقد ہوجائے گا، البتہ ان ایام میں قربت کی اجازت نہیں ہوگی۔ خلاصہ یہ ہے کہ نکاح منعقد ہونے کے لیے پاکی شرط نہیں ہے، تاہم پاکی اور ناپاکی جو احکام ہیں ان کا لحاظ ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200389
تاریخ15-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں