بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قضا نمازوں میں سنتیں پڑھنے کا حکم

سوال

فوت شدہ نمازوں کی قضا کے لیے ان کی سننِ موکدہ بھی ادا کی جائیں گی یا صرف فرض ہی ادا کیے جائیں گے؟

جواب

فوت شدہ نمازوں کی قضا  کرتے ہوئے صرف فرائض اور عشاء کی نماز میں فرض کے ساتھ وتر اداکیے جائیں گے ،سنتِ مؤکدہ کی قضا نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 66):

"(وقضاء الفرض والواجب والسنة فرض وواجب وسنة) لف ونشر مرتب، وجميع أوقات العمر وقت للقضاء إلا الثلاثة المنهية، كما مر.

 (قوله: وقضاء الفرض إلخ) لو قدم ذلك أول الباب أو آخره عن التفريع الآتي لكان أنسب. وأيضاً قوله: والسنة يوهم العموم كالفرض والواجب وليس كذلك، فلو قال: وما يقضى من السنة لرفع هذا الوهم، رملي.

قلت: وأورد عليه الوتر، فإنه عندهم سنة، وقضاؤه واجب في ظاهر الرواية، لكن يجاب بأن كلامه مبني على قول الإمام صاحب المذهب". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200372
تاریخ14-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں