بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرتہن کی اجازت سے گروی رکھی ہوئی چیز کا استعمال

سوال

اگر راہن، مرتہن  کی اجازت سے گروی رکھی ہوئی چیز کو استعمال کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

’’مرتہن‘‘ (جس کے پاس چیز گروی رکھی ہو)  کی اجازت سے ’’راہن‘‘ (گروی رکھوانے والے) کو گروی رکھی ہوئی چیز کے استعمال کی اجازت ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 482):
"(لا انتفاع به مطلقاً) لا باستخدام، ولا سكنى ولا لبس ولا إجارة ولا إعارة، سواء كان من مرتهن أو راهن (إلا بإذن) كل للآخر.

(قوله: من مرتهن أو راهن) الأول مصرح به في عامة المتون، والثاني صرح به في درر البحار وشرح مختصر الكرخي وشرح الزاهدي، وفيه خلاف الشافعي فعنده يجوز له الانتفاع بغير الوطء، والأول لا خلاف فيه كما في غرر الأفكار". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200364
تاریخ14-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں