بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کبوتر پالنا

سوال

میں بیرونِ ملک مقیم ہوں، ہر سال جب پاکستان جاتا ہوں تو گھر کی چھت پر میرے چھوٹے بھائی نے پالتو سفید کبوتر رکھے ہوئے ہیں تو مجھے بھی کبوتروں کا بہت شوق ہے، سو ہم دونوں بھائی اپنے شوق اور خوشی کے لیے کبوتر اڑاتے ہیں، ان کا بہت خیال رکھتے ہیں اور کبوتروں کا دانا پانی دوائی ہر چیز کا خیال رکھتے ہیں۔

کیا ہم کبوتر پال سکتے ہیں؟ اسلام میں کبوتر پالنا کیسا ہے؟

جواب

اگر پرندوں کی خوراک اور ضروریات وغیرہ کا خیال رکھا جاتا ہے تو انہیں پالنا اور ان  کی خرید وفروخت درست ہےاور آمدنی حلال ہے۔

البتہ کبوتر یا دیگر پرندے اڑانےکو مشغلہ بنانا، ہر وقت ان ہی کے ساتھ شوقیہ مصروف رہنا اور پرندے لڑانادرست نہیں ہے، احادیث سے اس کی ممانعت ثابت ہے۔ اسی طرح گھر کی چھت پر چڑھ کر کبوتر اڑانا  جس سے دوسروں کے گھروں میں نظر پڑتی ہو، یہ بھی شرعاً درست نہیں ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200358
تاریخ14-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں