تیسری رکعت میں کھڑے ہونے کے بجائے درود پڑھ لیا تو حکم
سوال
میں ظہر کی 4 رکعات فرض پڑھ رہا تھا، جب 2 رکعت پڑھ لی اور التحیات کے لیے بیٹھ گیا تو میرے ذہن سے نکل گیا کہ آیا میں نے 4 رکعات مکمل کرلی یا 2 اور میں "اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا" بھی ختم کرچکا تھا اور سلام پھیرنے لگاتھا، پھر یاد آیا کہ میں تو 2 رکعات پڑھ چکا ہوں، اس حالت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ آیا سجدہ سہو کروں یا 4 رکعت پھر سے پڑھوں؟
جواب
مذکورہ صورت میں آپ کو چاہیے کہ چار رکعات مکمل کریں اور سجدہ سہو بھی کریں۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 164):
"ولو سلم مصلي الظهر على رأس الركعتين على ظن أنه قد أتمها، ثم علم أنه صلى ركعتين، وهو على مكانه، يتمها ويسجد للسهو، أما الإتمام فلأنه سلام سهو فلايخرجه عن الصلاة، وأما وجوب السجدة فلتأخير الفرض، وهو القيام إلى الشفع الثاني". فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

