بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق دینا

سوال

میں نے اپنی بیوی کو 27 محرم کو ایک ساتھ نام لے کر تین طلاق دے دی ہیں، کیا طلاق واقع ہوگئی؟اور حلالہ کیسے کرنا ہوگا؟

جواب

جب آپ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں، آپ کی مطلقہ بیوی آپ  پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے، دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے، اب رجوع  کرنا جائز نہیں،عورت  اپنی عدت (اگر حمل نہ ہو تو پوری تین ماہواریاں اور اگر حمل ہو تو  وضع حمل تک)  کے بعد  دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔  عدت کے بعد  دوسری جگہ نکاح کرنے کی صورت میں  دوسرے شوہر  کا اگر انتقال ہوجاتاہے یا اس سے میاں بیوی کا تعلق قائم ہونے کے بعد وہ خود طلاق دے دے، اور اس کی عدت بھی گزر جائے تو  آپ  سے دوبارہ نکاح  کرسکتی ہے۔ تاہم آپ کے لیے اس کا دوسرا نکاح کرانا یا اس نکاح کا حصہ بننا شرعاً درست نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن کان الطلاق ثلاثًا في الحرة و ثنتین في الأمة لم تحل له حتی تنکح زوجًا غیره نکاحًا صحیحًا و یدخل بها ثم یطلقها أو یموت عنها". (ج۔1،ص 473، ط: رشیدیة)  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200351
تاریخ14-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں