بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مانعِ حمل عارضی سبب اختیار کرنا

سوال

میرے الحمد للہ چار بچے ہیں، میری بیوی اور بچے نہیں چاہتی، جب کہ میرا ہم بستری کا جی چاہتا ہے، مگر اس وقت ہم بے بس ہوتے ہیں، تو کیا فراغت کے وقت کپڑے کا استعمال کیا جا سکتا ہے؟ یا کوئی اور شرعی طریقہ بتا دیں۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر آپ کی اہلیہ مزید بچوں کی پیدائش سے انکاری کسی دنیاوی سبب (فقر و فاقہ کا خوف، وغیرہ) سے ہیں تو اس صورت میں انہیں اپنے اس عمل پر توبہ کرنا چاہیے، کیوں کہ رزق دینے والی ذات اللہ رب العزت ہے، جس نے قرآنِ مجید میں صراحت کے ساتھ  فقر و فاقہ کے خوف سے اولاد کو پیدائش کے بعد یا پیدائش سے قبل ہی قتل سے منع فرمایا ہے، اور ان کے رزق کی ذمہ داری خود لی ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اولاد کی کثرت کی ترغیب دی ہے۔

  البتہ اگر ان کا انکار صحت کی خرابی کی وجہ سے ہو تو اس صورت میں حمل سے مانع عارضی اسباب ( جیسے کونڈوم کا استعمال)  ہم بستری کے وقت اختیار  کیے جا سکتے ہیں، نیز عزل ( یعنی فراغت باہر کرنے) کی بھی اجازت ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200350
تاریخ13-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں