بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا نماز پہلے 50 وقت فرض ہوئی تھی؟

سوال

کیا نماز پہلے 50 وقت فرض ہوئی تھی؟

جواب

 جی ہاں!  ابتداءً پچاس نمازوں کا حکم ہوا،  پھر اللہ تعالی نے اپنے فضل وکرم سے 5 کردیں۔ ترمذٰ ی شریف مٰیں ہے۔

47. باب مَا جَاءَ كَمْ فَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ مِنَ الصَّلَوَاتِ؟ باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟

" عن انس بن مالك قال: فرضت على النبي صلى الله عليه وسلم ليلة أسري به الصلوات خمسين، ثم نقصت حتى جعلت خمساً، ثم نودي: " يا محمد إنه لايبدل القول لدي، وإن لك بهذه الخمس خمسين".  قال: وفي الباب عن عبادة بن الصامت، وطلحة بن عبيد الله، وأبي ذر، وأبي قتادة، ومالك بن صعصعة، وأبي سعيد الخدري. قال أبو عيسى: حديث أنس حسن صحيح غريب".

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر معراج کی رات پچاس نمازیں فرض کی گئیں،  پھر کم کی گئیں یہاں تک کہ (کم کرتے کرتے) پانچ کر دی گئیں۔ پھر پکار کر کہا گیا: اے محمد! میری بات اٹل ہے، تمہیں ان پانچ نمازوں کا ثواب پچاس کے برابر ملے گا ۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200335
تاریخ13-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں