بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کے لیے زیرِ ناف بالوں کی صفائی میں بلیڈ / قینچی استعمال کرنے کا حکم

سوال

خواتین کے لیے زیرِ  ناف غیر ضروری بالوں  کی  صفائی بلیڈ سے یا قینچی سے  کرنا جائز ہے یا نا جائز؟  

جواب

مردوں کے لیے زیرِ  ناف بال استرے/ بلیڈ  وغیرہ سے صاف کرنا اور عورتوں کے لیے اکھاڑنا بہتر ہے،  عورتوں کے لیے  استرے/ بلیڈ   یاقینچی کا استعمال بھی درست ہے،  لیکن بہتر نہیں،  البتہ عورت ، عذر (جلد کی کسی بیماری، خارش یا بال اکھاڑنے میں تکلیف ) کی صورت میں بلیڈ / قینچی استعمال کرسکتی ہے۔ 

"ويبتدئ في حلق العانة من تحت السرة، ولو عالج بالنورة في العانة يجوز، كذا في الغرائب". (الفتاوی الهندیة، کتاب الکراهیة، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها (5/358)
"وأما الاستحداد فهو حلق العانة سمي استحداداً؛ لاستعمال الحديدة وهي الموسى، وهو سنة، والمراد به نظافة ذلك الموضع، والأفضل فيه الحلق، ويجوز بالقص والنتف والنورة، والمراد بالعانة: الشعر الذي فوق ذكر الرجل وحواليه وكذاك الشعر الذي حوالي فرج المرأة". (شرح النووي علی مسلم، کتاب الطهارة، باب خصال الفطرة (3/148) ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت) فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200321
تاریخ12-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں