بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ترکہ میں ملنے والی زمین پر تقسیم سے قبل زکوۃ کا حکم

سوال

میرے والد صاحب  کے نام پہ کچھ زمین تھی جو کہ قانونی عمل  میں پیچیدگیوں  کی  وجہ  سے  اب تک ترکہ میں  کسی اور  کے نام  پر  تقسیم  نہیں  ہو سکی،  اب  والد  صاحب کو  وصال کیے  ہوئے ایک  سال مکمل ہو گیا ہے:

1- ایسی  زمین  پہ  اب زکوۃ  کس پر واجب الادا ہے؟

2- اور زکوۃ کا حساب یعنی کہ ایک سال گزرنا والد صاحب کی وفات کی تاریخ سے شروع ہوگا یا جس دن وہ زمین یا کوئی اور مال ورثہ کا نام پہ ٹرانسفر ہوا ہے اس دن سے شروع ہوگا؟

جواب

ورثاء کو جو زمین ترکہ میں ملتی ہے اس پر زکوۃ  لازم نہیں ہوتی؛  لہذا اگر یہ زمین تقسیم ہوجاتی تب بھی اس پر زکوۃ نہیں آتی،  ہاں تقسیم کے بعد  اگر رقم ورثاء کو ملے گی تو اگر وہ پہلے سے صاحب نصاب ہیں تو اپنے زکوۃ کی ادائیگی کے وقت دیگر اموال کے  ساتھ اس کی بھی زکوۃ  دیں گے،  خواہ اس رقم کو ملے ہوئے سال نہ ہوا ہو  اور اگر پہلے سےصاحبِ  نصاب نہیں ہیں اور اب اس رقم کے ملنے سے صاحبِ  نصاب بن جائیں  تو جس دن رقم ملے گی،  اسی دن سے سال کا حساب ہوگا ،سال پورا ہونے پر زکوۃ ادا کرنی ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200302
تاریخ11-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں