بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انسانی جگر کے عطیہ کا حکم

سوال

زید کے والد کا جگر کا مسئلہ ہے زید اپنی خوشی سے اپنے جگر میں سے دینےکے لیے  تیار ہے، اور آج کل یہ قابلِ عمل بھی ہے، تو کیا زید کے لیے اپنے جگر میں سے کچھ اپنے والد کو دینا جائز ہے یا نہیں?

جواب

      کسی انسانی عضو کا  دوسرے انسان کے جسم میں استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں ہے خواہ معاوضہ کے ساتھ ہو یا بلامعاوضہ ہو، اور جگر بھی انسانی عضو ہے، لہذا ایک انسان کا جگرکے حصہ کی دوسرے انسان کے جسم میں پیوندکاری کرنا شرعاً ناجائز ہے۔

انسانی اعضاء کی پیوندکاری سے متعلق شرعی حکم کی تفصیل کے لیے درج لنک پر جامعہ کا فتویٰ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے:

انسانی اعضاء کی پیوندکاری اور خون کا حکم / حیوانات، جمادات اور نباتات کے ذریعہ پیوندکاری کا حکم

انسانی اعضاء کی پیوند کاری / زندگی میں گردہ کسی کو ہدیہ کرنا

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200291
تاریخ11-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں