بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انویسٹمنٹ کرنے پر لگائے ہوئے پیسوں کا چالیس فیصد منافع دینے والی کمپنی میں انویسٹمنٹ کرنے کا حکم

سوال

ایک کمپنی ہے، جس کا نام fxtrade-invest.club  اس میں یہ طریقہ کار ہے کہ کمپنی کہتی ہے کہ آپ انویسٹمنٹ کرو، آپ کی انویسٹمنٹ پر ہم ٹریڈنگ کریں گے، اس میں انویسٹمنٹ کا طریقہ یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ اس میں 15 ڈالرز سے لے کر100 ڈالرز تک جتنا بھی آپ انویسٹمنٹ کرے گا  24 گھنٹے بعد آپ کو اپنے پیسے کے ساتھ 40 پرسینٹ منافع بھی دیتی ہے، اس میں مختلف پلان ہیں، اور مختلف پرسینٹیج ہے۔ کیا اسلام میں یہ جائز ہے کہ نہیں؟ پر سینٹیج فکس دیتا ہے،  24 گھنٹے بعد اپنے پیسے بھی واپس؟

جواب

اگر مذکورہ کمپنی آپ کے لگائے ہوئے پیسوں کا چالیس فیصد (مثلاً) منافع دینے کا معاہدہ کرتی ہے تو یہ سود ہے، اس لیے مذکورہ کمپنی میں انویسٹمنٹ کرنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200282
تاریخ11-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں