بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سوتیلے باپ اور چچا کی بیوہ سے نکاح

سوال

 میراباپ فوت ہوجانےکے بعد میری ماں کا نکاح میرے چچا کے ساتھ ہوا تھا، لیکن بعد میں میرے اس چچا نے تیسرے شادی کی تھی، اب میرا وہ چچا بھی وفات پا چکا ہے۔ تو میرا  چچا کی تیسری بیوی سے نکاح جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

مذکورہ صورت میں آپ کے چچا آپ کے سوتیلے باپ بھی ہیں تو ان کی بیوی سے آپ کا رشتہ آپ کے سوتیلے باپ کی بیوی کا بنتا ہے، ان کی تیسری بیوہ آپ کی سوتیلی ماں نہیں ہے، لہذا آپ کا نکاح ان سے جائز ہے۔

اللہ تعالی کا ارشادہے:

{وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۚ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا} [4-22]

تفسير البغوي "معالم التنزيل":

"أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ السِّجْزِيُّ أَنَا الْإِمَامُ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ أَنَا أَحْمَدُ بْنُ هِشَامٍ الْحَضْرَمِيُّ أَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: مَرَّ بِي خَالِي وَمَعَهُ لِوَاءٌ فَقُلْتُ: أَيْنَ تَذْهَبُ؟ قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ آتِيهِ برأسه". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200235
تاریخ08-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں