بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرضہ پر زائد رقم فکس کرنا

سوال

1۔  اگر  میں کسی سے قرضہ لوں، کاروبار کے لیے، یا کار خرید کر رینٹ پر چلانے کے لیے یا رکشہ کی خریداری کے لیے، تو کیاا س پر رقم فکس کرنا صحیح ہے؟

2۔  اگر میں کوئی گاڑی مثلاً  12 لاکھ  کی لوں، اور وہ گاڑی اپنے دوست کو پندرہ لاکھ  میں فروخت کردوں تو کیا یہ صحیح ہے؟

جواب

1۔صورتِ  مسئولہ میں قرضہ پر زائد رقم فکس کرنا سود ہونے کی وجہ سے جائز نہیں۔

2۔بارہ  لاکھ  کی گاڑی خرید کر پندرہ لاکھ میں فروخت کرنا جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200200
تاریخ06-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں