بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پہنچوائی کی قیمت کسٹمر کو بتانا

سوال

کریانہ کی دوکان تھی،  سامان کی پہنچوائی کے پیسے گاہک کی اطلاع کے بغیر بل میں ڈال دیتا تھا،  کیا اس کی اطلاع دینا ضروری ہے؟

جواب

اگر پہنچوائی کی قیمت  سامان کے علاوہ ہو تو  اس (پہنچوائی)  کی قیمت کا علیحدہ سے ذکر کرنا ضروری ہے، بل ہی میں اس کی صراحت کردیں تو  کافی ہے۔  اور اگر سامان کی ڈیلیوری فری ہو یا اس کی قیمت سامان کی قیمت میں شامل کرلی گئی ہو تو  پھر اس کی صراحت ضروری نہیں۔ اور اگر آپ نے اپنے کسی  گاہک سے پہنچوائی کے پیسے اس کو بتائے بغیر وصول کیے ہیں تو  اب ان کو اطلاع کردیں۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 147):
"(ومنها:) أن يكون مقدور التسليم عند العقد، فإن كان معجوز التسليم عنده لاينعقد".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200182
تاریخ06-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں