بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 جُمادى الأولى 1448ھ 27 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منال نام رکھنا

سوال

اللہ نے مجھے بیٹی دی ہے،  اور میں اس کا نام ’’منال‘‘  رکھنا چاہتاہوں،  کیا یہ نام صحیح رہے گا؟

جواب

’’مَنَال‘‘ (میم اور نون کے زبر کے ساتھ) کے معنی ہیں: ایسی چیز جس کو حاصل کیا جائے،  عطیہ، تحفہ۔

  یہ نام رکھ سکتے ہیں۔ تاہم صحابیات کے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب  اسے سے زیادہ بہتر ہے۔

"مَنَال : (معجم الغني) 1- بَعِيدُ الْمَنَالِ : مَا يَصْعُبُ الْحُصُولُ عَلَيْهِ عَكْسُ :سَهْل الْمَنَالِ. 2- لاَ يَنَالُ مِنْهُ مَنَالاً : لاَ يُؤَثِّرُ عَلَيْهِ. 3- نَالَهُ أَوْفَرَ مَنَالٍ : أَعْطَاهُ أَوْفَرَ العَطَاءِ". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200155
تاریخ05-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں