بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رامش نام رکھنا

سوال

’’رامش‘‘  نام کے معنی کیا ہیں ؟ کیا یہ نام رکھ سکتے ہیں؟

جواب

’’رامش‘‘  فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی آرام، خوشی، مشورہ اور سروں کا ملاپ ہے، لہذا یہ نام رکھنے کی گنجائش ہے، لیکن مناسب ہے کہ بچوں کا نام انبیاء کرام علیہم السلام،  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا نیک مسلمان مردوں کے نام پر رکھا جائے۔

فیروز اللغات میں ہے:

"رامش: (ف-ا-مث) (1) آرام، آسائش، استراحت (2)خوشی، مسرت (3)خوشی میں گانا (4)صلاح، مشورہ (5)سروں کا میل ،ہم سازی". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200136
تاریخ05-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں