بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا نقلی پلکیں لگانا جائز ہے؟

سوال

نقلی پلکیں لگانا جائز ہے؟

جواب

اگر کوئی عورت  شوہر کی خاطر  تزیین و  آرائش کے لیے مصنوعی پلکیں لگاتی ہے تو اس کے لگانے کی گنجائش ہے، البتہ وضو کے لیے پلکوں کو نکال کر وضو کرنا ضروری ہوگا، نیز  محض دکھلاوے کی خاطر مصنوعی پلکیں  لگانے کی اجازت نہیں۔

سنن أبي داود ت الأرنؤوط (7/ 347):
"عن أسماء بنت أبي بكر: أن امرأة قالت: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم، إن لي جارة -تعني ضرة- هل علي جناح إن تشبعت لها بما لم يعط زوجي؟ قال: "المتشبع بما لم يعط كلابس ثوبي زور".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200123
تاریخ04-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں