بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی نہ ہونے کی وجہ استخارہ سے معلوم نہیں کی جاتی

سوال

میں شادی کرنا چاہتا ہوں،  لیکن میرا رشتہ نہیں ہورہا، ہیں نے وظیفہ بھی کیے تھے،  لیکن رکاوٹ آجاتی ہیں،  آپ ہمارا استخارہ کردیں۔   نام۔۔۔۔ والدہ کا نام۔۔۔

جواب

واضح رہے کہ ’’استخارہ‘‘  کے معنی کسی معاملہ میں اللہ سے خیر طلب کرنے کے ہیں، استخارہ ایک مسنون عمل ہے، جس میں دو رکعت ادا کرکے مخصوص دعا پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے کسی بھی جائز معاملے میں خیر  کی طلب اور برائی سے بچنے کی دعا کی جاتی ہے۔  استخارہ کے ذریعہ سے کسی کام کے نہ ہونے کی وجہ معلوم نہیں کی جا سکتی ہے، لہذا صورتِ  مسئولہ میں آپ کی شادی میں پیش آمدہ رکاوٹ کی وجوہات استخارہ کے ذریعہ سے معلوم نہیں کی جاسکتیں، آپ فرض نمازوں، تہجد، غروبِ آفتاب اور صلاۃ الحاجت کے بعد دعاؤں کا اہتمام جاری رکھیے۔  اور رشتے کے انتخاب میں دین داری و اخلاق کو ترجیح دیجیے، نیز سماجی اور مالی اعتبار سے اپنے برابری کے خاندان میں رشتہ دیکھیے، عموماً بڑی توقعات و تمنائیں، مقاصد کے حصول میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200118
تاریخ04-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں