بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خواب میں کسی دوسرے شخص کی شکل و شباہت میں دیکھنا

سوال

زید کہتا ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرو کی شکل وشباہت میں دیکھاہے، تو کیا زید کا ایسا کہنا جائز ہے؟  اور کیا یہ گستاخی کے ضمن میں آتا ہے؟  تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں ۔

جواب

اگر ’’عمرو‘‘ عالم ہے تو  زید کا خواب میں رسول اللہ ﷺ کو عمرو کی شکل و شباہت میں دیکھنے  کی تعبیر یہ ہے کہ ’’عمرو‘‘ اہلِ  حق علماء میں سے ہے، اور اگر ’’عمرو‘‘ عالم نہیں ہے، بلکہ عام آدمی ہے تو اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ ’’عمرو‘‘ کو سنتِ  رسول ﷺ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق ملے گی۔

بہرحال ایسا خواب آنے کی صورت میں خواب بیان کرتے ہوئے کہنا کہ ’’میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرو کی شکل وشباہت میں دیکھاہے‘‘، جائز ہے، یہ گستاخی کے ضمن میں نہیں آئے گا۔

باقی حدیثِ پاک میں جو یہ مضمون وارد ہے کہ ’’جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے واقعۃً مجھے ہی دیکھا، کیوں کہ شیطان میری صورت میں نہیں آسکتا‘‘، یعنی جب رسول اللہ ﷺ کو اسی حلیہ مبارکہ دیکھے جیساکہ آپ ﷺ کا حلیہ مبارکہ کتبِ شمائل میں منقول ہے، تو اس خواب کے سچا ہونے میں ذرہ بھی شک نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200056
تاریخ02-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں