بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فیملی پلاننگ کے منصوبہ سے متعلق این جی اوز کے ساتھ ملازمت

سوال

 ایک ادارہ  ’’میری اسٹوپیس سوسائٹی‘‘ ہے، جو کہ ایک این جی او ہے،  اور پاکستان میں فیملی پلاننگ کو لے کر کام کررہی ہے،  میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ اس ادارے کے  لیے کسی بھی قسم کا کام کرنا یا  سروس فراہم کرنا کیسا ہے؟  مطلب اس کام یا  سروس کی مد میں جو رقم ملے گی وہ جائز ہوگی یا  نہیں؟

جواب

فیملی پلاننگ کا مروجہ منصوبہ   منشاءِ شریعت کے خلاف ہے، اس خطرہ کے پیش نظر  کہ بچے زیادہ ہوں گے تو ان کے معاش کا انتظام کیسے ہوگا،  فیملی پلاننگ کرنا حرام ہے، زمانہ جاہلیت میں رزق کی کمی کے خدشہ سے اپنی اولاد کو قتل کردیا کرتے تھے،  آج کی فیملی پلاننگ بھی اس تصور کی ایک مہذب تصویر ہے؛ لہذا ایسی این جی اوز  جو اس مقصد کے لیے کام کررہی ہوں، ان کے ساتھ تعاون کرنا اور انہیں سہولیات وسروس فراہم کرنا ایک گناہ کے کام میں معاون بننے کی بنا پر جائز نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200016
تاریخ30-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں