بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر بیٹا والد کے مکان پر ایک منزل ڈال دے تو وہ کس کی ہو گی؟

سوال

اگر کوئی بیٹا والد کے مکان میں ایک منزل بناتا ہے تو وہ منزل اس بیٹے کی ملکیت ہو جاتی ہے یا اس کو اس کی رقم ملے گی؟

جواب

اس مسئلہ کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں:

1- اگر بیٹے نے منزل بنانے سے پہلے یہ صراحت کر دی ہو کہ اس منزل کی تعمیر میں رقم بطورِ قرض لگا رہا ہوں تو ایسی صورت میں اس کو اس کی رقم واپس ملے گی۔

2- اگر بیٹے نے یہ صراحت کر دی ہو کہ میں اپنے لیے یہ جگہ بنا رہا ہوں اور اس میں والد  کی اجازت بھی شامل تھی تو اس صورت میں وہ اس منزل کا مالک ہو گا اور تعمیر پر جو اخراجات ہوئے اس کا مستحق بھی ہوگا۔

3- اگر بیٹے نے کوئی صراحت نہ کی ہو تو  یہ منزل والد کی ہو گی اور اس کو اس کے بدلے کوئی رقم نہ ملے گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200009
تاریخ30-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں