بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہوا کے خروج سے استنجا لازم نہیں

سوال

با آوازِ بلند ہوا خارج ہونے کی صورت میں استنجا لازم ہے یا نہیں؟

جواب

شرم گاہ سے کسی ظاہری نجاست کے نکلنے کے بعد استنجا کرنا لازمی ہوتاہے، صرف ہوا خارج ہونےسے استنجالازم نہیں ہوتا،البتہ ہو اخارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتاہے چاہے آواز آئے یا نہ آئے، لہذاہواخارج ہونے کے بعد استنجا لازم نہیں، صرف وضو کرنا کافی ہے۔فتاوی شامی میں ہے :

"فصل: الاستنجاء: إزالة نجس عن سبيل فلايسن من ريح وحصاة ونوم وفصد". (1/335) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200377
تاریخ29-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں