بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انٹرنیٹ پراشتہارت کے ذریعے کمانے کا حکم

سوال

اشتہارات کے ذریعے پیسے کمانا درست ہے کہ نہیں؟  اگر نہیں تو کیوں؟ اب تو آن لائن کا دور آنے والا ہے۔ 

جواب

عموماً ویب سائٹس پر جو اشتہارات لگائے جاتے ہیں اُن میں سے  اکثر اشتہارات جان دار کی  تصاویر پر مشتمل ہوتے ہیں، اور جس طرح جان دار کی تصویر بنانا شرعاً منع ہے اسی طرح اُس کی ترویج اور تشہیر بھی ممنوع ہے،  اسی طرح بہت سے اشتہارات دیگر غیر شرعی امور پر مشتمل ہوتے ہیں؛ لہذا اگر مذکورہ طریقہ کار میں اشتہارات کی تشہیر ہوتی ہے تو  یہ  گناہ کے کام میں معاونت ہے؛ اس لیے  ایسی کمائی جائز نہ ہوگی۔

اس کے علاوہ اشتہار دیکھنا کوئی ایسا کام نہیں ہے جس پر اجارہ کے جواز کا فتوی دیاجاسکے، مزید یہ کہ اس میں دھوکا دہی کا پہلو بھی ہے; اس لیے لوگوں کے اشتہارات دیکھنے کے عوض مال وصول کرنا جائز نہیں ہوگا۔  نیز ایک مسلمان کی شان یہ ہونی چاہیے کہ زمان کے تیور دیکھ کر قدم اٹھانے کے بجائے ہر موقع اور ہر قدم پر دین و شریعت کو مقدم رکھے اور ایسے امور سے اجتناب کرے جو شرعاً جائز نہ ہوں۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200354
تاریخ28-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں