بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خود کشی کرنا

سوال

خود کشی کرنا جائز ہے؟

جواب

خود کشی کرنا حرام ہے، خودکشی کرنے والے کے  بارے میں سخت وعید  ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے: 

"عن أبي هریرة قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: من تردی من جبل فقتل نفسه، فهو في جهنم یتردی فیها خالداً مخلداً فیها أبداً، ومن تحسا سماً فقتل نفسه فسمه في یده یتحساه في نار جهنم خالداً مخلداً فیها أبداً، ومن قتل نفسه بحدیدة فحدیدته في یده یتوجأء بها في بطنه في نار جهنم خالداً مخلداً فیها أبداً. متفق علیه". (مشکاة ،ج٢ص٢٩٩)

ترجمہ:حضرت  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرمایا  رسول اللہ ۖ نے:  جو شخص خود کو پہاڑ سے گراکر ہلاک کرے گا تو وہ جہنم کی آگ میں خود کو پہاڑ  سے گراکر ہلاک کرتا رہے گا اور یہ سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ چلے گا، اور جس نے زہر کھاکر خود کو مار ڈالا تو اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا جہنم کی آگ میں اور ہمیشہ ہمیشہ رہ کر ایسا ہی کرتا رہے گا اور جس نے دھاری دار تیز  چیز سے اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالا تو وہ چیز اس کے ہاتھ میں ہوگی جہنم کی آگ میں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ ایسا ہی کرتا رہے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200336
تاریخ28-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں