بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

"يا أبا عمير ما فعل النغير!" حدیث کا حوالہ

سوال

"يا أبا عمير ما فعل النغير" ،  اس روایت کا حوالہ مطلوب ہے۔

جواب

مذکورہ حدیث صحیح بخاری ومسلم سمیت دیگر کتبِ حدیث میں موجود ہے، صحیح بخاری میں ہے :

"عن أنس قال كان النبي صلى الله عليه وسلم أحسن الناس خلقاً، وكان لي أخ -يقال له: أبو عمير- قال: أحسبه فطيم، وكان إذا جاء قال: يا أبا عمير، ما فعل النغير! نغر كان يلعب به، فربما حضر الصلاة وهو في بيتنا، فيأمر بالبساط الذي تحته فيكنس وينضح، ثم يقوم ونقوم خلفه فيصلي بنا". (باب الكنية للصبي وقبل أن يولد للرجل، 8/55بیروت-صحیح مسلم، باب استحباب تحنيك المولود عند ولادته وحمله إلى صالح يحنكه وجواز تسميته يوم ولادته واستحباب التسمية بعبد الله وإبراهيم وسائر أسماء الأنبياء عليهم السلام، 6/176 بیروت)

ترجمہ:حضرت  انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے  کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق  کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے اچھے تھے، میرا ایک بھائی تھا جس کو ابوعمیر کہا جاتا تھا، راوی کا بیان ہے کہ غالباً اس کا دودھ چھٹ چکا تھا،جب وہ آتا تو آپﷺ فرماتے :اے ابوعمیر !نغیر کو کیا ہوا؟!  نغیر ایک پرندہ تھا جس کے ساتھ وہ کھیلتا تھا۔ 

اور اکثر نماز کا وقت ہوتا اور آپ ہمارے گھر میں ہوتے، جس فرش پر آپ تشریف فرما ہوتے اس کے جھاڑنے اور صاف کرنے کا حکم دیتے، پھر آپ (نماز کے لیے) کھڑے ہو جاتے، ہم بھی آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو جاتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200327
تاریخ27-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں