بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو نمازیں ایک تحریمہ سے ادا کرنے کا حکم

سوال

کیا ایک تکبیر تحریمہ سے دو فرض نماز ہوجاتی ہیں؟

جواب

ہر نماز کے لیے علیحدہ تکبیرِ تحریمہ لازمی ہے اور یہ نماز کے  فرائض میں سے ہے،  اس لیے  ایک تکبیرِ  تحریمہ سے دو نمازیں اداکرنا درست نہیں ہے۔

البحرالرائق میں ہے :

"( قوله: فرضها التحريمة ) أي ما لا بد منه فيها، فإن الفرض شرعاً ما لزم فعله بدليل قطعي أعم من أن يكون شرطاً أو ركناً، والتحريم جعل الشيء محرماً، وخصت التكبيرة الأولى بها؛ لأنها تحرم الأشياء المباحة قبل الشروع، بخلاف سائر التكبيرات، والدليل على فرضيتها قوله تعالى: { وربك فكبر }، جاء في التفسير: أن المراد به تكبيرة الافتتاح، ولأن الأمر للإيجاب، وما وراءها ليس بفرض؛ فتعين أن تكون مرادةً، لئلايؤدي إلى تعطيل النص".(3/147) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200324
تاریخ27-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں