بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

(بی فار یو ٹرییڈز) کمپنی میں پیسے انویسٹ کرنے کا حکم

سوال

 ایک کمپنی ہے پاکستان میں (بی فار یو ٹرییڈز )کے نام سے۔  وہ کہتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ پیسہ انویسٹ کریں اور اس کے عوض وہ ہمیں ماہانہ بنیادوں پر منافع دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کا پیسہ مختلف کاروبار میں انویسٹ کرتے ہیں، جیسے کہ پراپرٹی کا کاروبار، آئی ٹی کا ، آٹو انڈسٹری وغیرہ وغیرہ۔  ابھی اس کمپنی نے پاکستان میں اپنا موٹر سائیکل بھی متعارف کروایاہے۔ جب میں نے تحقیق شروع کی تو پتا چلا کہ یہ کمپنی ہماری انوسٹمنٹ کا 60 فیصد ڈیجیٹل کرنسی اور 40 فیصد درج بالا کاروبار میں انویسٹ کرتی ہے۔ اور منافع بھی فکس نہیں ہے۔ کمپنی کے ایگریمنٹ کے مطابق 7 سے 20 فیصد تک منافع آسکتا ہے ماہانہ۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیااس کمپنی میں پیسہ انویسٹ کرکے منافع لینا شرعی لحاظ سے جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

آپ نے مذکورہ کمپنی کے کاروبار کا طریقہ بیان کیا ہے،  اس کی رو سے اس کمپنی میں پیسے انویسٹ کرنا جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ ایک تو مذکورہ کمپنی ڈیجیٹل کرنسی میں انویسمنٹ کرتی ہے،  جس کا معاملہ تاحال مشکوک ہے، اور تاحال علماء نے اس کی خرید و فروخت کی اجازت نہیں دی ہے۔  دوسری خرابی یہ ہے کہ مذکورہ کمپنی شرکت کے لیے دیے گئے  پیسوں کا سات سے لے کر بیس فیصد تک نفع دیتی ہے، جب کہ شرکت میں لگائے گئے پیسوں کے فیصد کے اعتبار سے نفع طے کرنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200279
تاریخ26-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں