بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فون پر کیے ہوئے نکاح کے بعد خلوتِ صحیحہ

سوال

کیا دو گواہ کی موجودگی میں فون پر نکاح کیا جا سکتا ہے بغیر کسی وکیل کے؟ اگر کوئی  ایسا کرے اور اس کے بعد خلوتِ صحیحہ ہوجائے تو ایسے میں کیا کفارہ ادا کیا جائے؟

جواب

واضح رہے کہ وکیل بنائے بغیر فون پر کیا ہوا نکاح درست ہی نہیں ہوتا،  وہ عورت اجنبی ہوتی ہے، اس کے ساتھ خلوت میں ملنا  جائز نہیں، لہذا اگر خلوتِ صحیحہ ہو جائے تو اس پر توبہ و استغفار کرنالازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200257
تاریخ25-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں