بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مہر کی زمین پر زکاۃ

سوال

 میری  اور میرے شوہر  کی ایک جگہ پر ایک ایکڑ زمین ہے،  جس میں نصف زمین میرے مہر میں ہے۔ اس پوری  زمین (ایک ایکڑ)کو ہم ‏نے تین سال کی  میعاد پر سالانہ ایک لاکھ روپے پراجارہ میں دیا ہوا ہے۔  سال کے پورا ہونے پر ہمیں یک مشت رقم نہیں ملتی، بلکہ دو یا تین مہینوں ‏میں پوری رقم مل جاتی ہے۔ میرا شوہر ریٹائرڈ ہے، اسے پنشن ملتی ہے۔ جب کہ مجھے اپنی والدہ  کی طرف سے کبھی کبھی کبھار کچھ رقم جاتی ہے۔ آپ سے ‏میرا یہ سوال ہے:

‏1: اس اجارہ پر ملنے والی رقم پر زکاۃ واجب ہے یا نہیں؟

‏ ‏2: اگر زکاۃ واجب ہے تو مجھ پر کتنی زکاۃ واجب ہے اور میرے شوہر پر کتنی زکاۃ واجب ہے؟

‏3: اس مال کا ہم زکاۃ کیسے نکالیں اور کتنی دیں؟ 

جواب

 مذکورہ زمین جب کرائے کے لیے ہے، بیچنے کے لیے نہیں لی ہے تو اس زمین کی مالیت پر زکاۃ نہیں ہے۔

چوں کہ یہ زمین آدھی آپ کی ہے اور باقی آپ کے شوہر کی تو اس کی آمدنی   بھی آدھی آپ کی ہے اور باقی شوہر کی۔

اب اگر آپ صاحبِ  نصاب ہیں تو اخراجات کے بعد  اس میں سے جو سال کے آخر میں جو بچ جائے  تو اپنے قابلِ زکاۃ اثاثوں میں  ملاکر اس کا ڈھائی فیصد ادا کریں ، شوہر  کے لیے بھی یہی حکم ہے۔

جس روز کسی عاقل بالغ مسلمان کے پاس بنیادی ضرورت سے زائد نصاب کے بقدر مال (یعنی صرف سونا ہوتو ساڑھے سات تولہ سونا، بصورتِ دیگر سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت ہو تو ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر) جمع ہوجائے اس دن سے وہ شرعاً صاحبِ نصاب شمار ہوگا،  اور اسی دن سے سال کا حساب بھی کیا جائے گا، اور قمری حساب سے سال پورا ہونے پر اسی تاریخ کے اعتبار سے زکات واجب ہوگی۔ مذکورہ معیار کو سامنے رکھ کر اپنے متعلق فیصلہ کرلیجیے کہ آپ صاحبِ نصاب ہیں یا نہیں۔

کرائے کی مد میں جو رقم حاصل ہو اگر وہ خرچ ہوجائے، سال پورا ہونے پر نہ بچے تو اس پر زکاۃ نہیں ہوگی، اگر اس رقم میں سے کچھ رقم کی بچت ہو تو صاحبِ نصاب ہونے کی صورت میں اسے بھی دوسرے مال کے ساتھ ملاکر زکاۃ ادا کرنی ہوگی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200230
تاریخ24-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں