بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سمندر میں نماز قصر

سوال

سمندر میں کتنی حدود کے بعد قصر کریں گے؟

جواب

سمندر میں مسافتِ قصر یا اس سے زیادہ سفر کا ارادہ ہو  تو دیکھا جائے گا کہ سمندر  اگر کسی شہر سے لگتا ہےتو  اس صورت میں جہاز / کشتی کے حرکت کرتے وقت سے سفر شروع ہوجائے  گا،  اس کے   لیے شہر کی فصیل کا اعتبار نہیں۔  تاہم اگر جہاز شہر  کی عمارتوں کے ساتھ چل رہا ہو تو جب تک ان عمارتوں سے آگے نہ نکل جائے نماز قصر نہیں پڑھی جائے گی۔

الفتاوى الهندية (1/ 144):

"وفي الولوالجية: افتتح الصلاة في السفينة حالة إقامته في طرف البحر فنقلتها الريح وهو في السفينة فنوى السفر يتم صلاة المقيم عند أبي يوسف - رحمه الله تعالى -. وفي الحجة: الفتوى على قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - احتياطاً".فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200229
تاریخ24-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں