بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پتنگ بازی سے اجتناب کرنا چاہیے

سوال

ایک آدمی پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہو اور وہ شغل کے لیے عصر کے بعد پتنگ اڑاتا ہو،  کیا  پتنگ اڑانا گناہ میں شامل ہوگا ؟  عادت تو نہیں ہے،  مگر کبھی کبھار اڑاتا ہے، اس کی شریعت میں کتنی ممانعت ہے؟

جواب

پتنگ بازی میں پیسوں اور وقت کا ضیاع ہےاور مختلف مواقع پر کئی انسانی جانوں کے ضیاع کی نوبت بھی آچکی ہے؛  لہذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200224
تاریخ24-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں