پتنگ بازی سے اجتناب کرنا چاہیے
سوال
ایک آدمی پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہو اور وہ شغل کے لیے عصر کے بعد پتنگ اڑاتا ہو، کیا پتنگ اڑانا گناہ میں شامل ہوگا ؟ عادت تو نہیں ہے، مگر کبھی کبھار اڑاتا ہے، اس کی شریعت میں کتنی ممانعت ہے؟
جواب
پتنگ بازی میں پیسوں اور وقت کا ضیاع ہےاور مختلف مواقع پر کئی انسانی جانوں کے ضیاع کی نوبت بھی آچکی ہے؛ لہذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144102200224
تاریخ24-10-2019

