بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ، ایک بیٹا تین بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم

سوال

ایک شخص فوت ہوا ہے،  اس کے ورثاء میں ایک بیوہ، ایک بیٹا،  تین بیٹیاں ہیں،  اور نواسے نواسیاں بھی ہیں، اب میراث میں کس کس کا حصہ بنتا ہے ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مرحوم کے کل ترکہ کو  40 حصوں میں تقسیم کرکے، 5 حصے بیوہ کو ، 14 حصے مرحوم کے اکلوتے بیٹے کو اور 7 حصے ان کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔ نواسیاں اور نواسے محروم رہیں گے۔ یعنی سو روپے میں سے ساڑھے بارہ روپے مرحوم کی بیوہ کو ، پینتیس روپے مرحوم کے  اکلوتے بیٹے  کو  اور ساڑھے سترہ روپے ان کی ہر ایک بیٹی کو  دیے جائیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200222
تاریخ24-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں