بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آن لائن اشتہارات دیکھنے کو کمائی کا ذریعہ بنانے کاحکم

سوال

میں ایک آن لائن کام کرتاہوں،  ایک امریکی کمپنی ہے وہ ایڈ چلاتی ہے، اس کی ویب سائٹ پر ہم سو ڈالر کا پیکج یا پوائنٹ خریدتے ہیں، پھر کمپنی ہمیں کچھ ایڈز بھیجتی ہے، جو ہم کلک کرتے ہیں، اس کلک کرنے کے کمپنی ہمیں پیمنٹ کرتی ہے جو ڈالرز میں ہوتی ہے، اگر ہم سو ڈالرز انویسٹ کرتے ہیں تو روزانہ 5 ڈالرز کما سکتے ہیں اور جو ایڈز آتے ہیں، وہ بھی ویڈیو میں نہیں ہوتے،  کیا یہ کام صحیح ہے؟

جواب

1-  یہ کام کرنا جائز نہیں، اس میں ایسے لوگ اشتہارات کو دیکھتے ہیں جن کایہ چیزیں لینے کا کوئی ارادہ ہی نہیں، اشتہارات دینے والی کمپنی کو ایسےافراد کی بنیاد پر  دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ دکھانا جو کہ کسی طرح بھی خریدار نہیں، یہ بیچنے والے کے ساتھ ایک قسم کا دھوکا ہے۔
2-    جان دار کی تصویر کسی بھی طرح کی ہو، اس کا دیکھنا جائز نہیں، لہٰذا اس پر جو اُجرت لی جائے گی، وہ بھی جائز نہ ہوگی۔
3-    ان اشتہارات میں خواتین کی تصاویر بھی ہوتی ہیں، جن کا دیکھنا بدنظری کی وجہ سے مستقل گناہ ہے۔
4-       شریعت میں بلا محنت کی کمائی کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے اور اپنی محنت کی کمائی حاصل کرنے کی ترغیب ہے اور اپنے ہاتھ کی کمائی کو افضل کمائی قراردیا ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200215
تاریخ24-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں